دادا جان سید محمد مصطفیٰ کے ہاتھ سے لکھی تحریر
میرے ارزانی و خوش حالی کا زمانہ
(یہ مختصر تحریر اس لئے ہے ۔ تاکہ اس اشارہ سے اندازہ لگایا جائے کہ اب زمانہ کس تیزی کے ساتھ مہنگائی اور گرانی کیطرف جارہی ہے اور زندگی کس طرح تنکی اور شدت میں آرہی ہے۔ )
(سید محمد مصطفےٰکینال کالونی ہیڈ سلیمانکی)
والد مرحوم حضرت شاہ مولانا کرامت علی صاحب جونپور کے تھے ۔ والدہ مرحومہ محترمہ سیدہ حسینہ بانو دختر حضرت شاہ مولانا ریاض الدین مرحوم بنگال کی تھی ۔ والد صاحب ہدایت و تبلیغ کے سلسلہ میں بنگال تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں والدہ مرحومہ سیدہ حسینہ بانو سے والد صاحب کا عقد نکاح ہو گیا تھااور ان کو والد صاحب اپنا وطن جونپور لے آئے تھے میں جونپور ہی میں پیدا ہوا تھا ۔ جب میں تین سال کا ہو گیا تھا والد صاحب اور والدہ صاحبہ کے ہمراہ بنگال چلا گیا تھا ۔ وہاں پہنچ کر بنگال کو ایک خوش منظر ملک پایا دل باغ باغ ہو گیا پورا ملک کی آبادی کا نقشہ ہے کہ ساری زمین یکساں سونا ہے خالص مٹی ہے نہ اس میں ریت ہے نہ شوروکلر ہے نہ اس میں کنکریاں اور روڑیاں ہیں نہ پتھر و ٹھکریوں کا نام نشان ہے ہر زمین ایسی ہے کہ اسمیں جو کچھ بھی بویابیجا جاتا ہے وہی سبز وشادابی میں لہلہا رہا ہے کہیں سمندر یں ہیں کہیں دریا کہیں چوڑے چوڑے نالے پانی کی لہریں چل رہی ہیں۔ رہایشیوں کا نقشہ یہ ہے کہ بیچ میں رہائشی مکان ہیں وسیع صحن ہے باورچی خانہ ہے الگ بیٹھک ہے مال ڈور کا الگ ٹھکانا ہے پانی کا ایک بڑا تالاب ہے ان مذکورہ اشیا ء مکان وغیرہ کے چاروں طرف ناریل، آم ، امرود، لیچو ، کیلے ، سپاری وغیرہ کے درختیں ہیں ان بڑے درختوں کے علاوہ چاروں طرف انناس وغیرہ کے چھوٹے چھوٹے پودے ہیں خلاصہ یہ کہ اس گول چکر باغ کے بیچ ہیں رہائش کرنے والا ملک کا رہائشی مکان و صحن اور باورچی خانہ ، اور بیٹھک اور تالاب وغیرہ واقع ہے تالاب کے چاروں طرف اونچے اونچے بند ہیں بعض بعض مالک کے ان بندوں پر بھی کھٹال ، بٹھال ، سپاری ،کیلے وغیرہ کے درخت بھی لگائے گئے ہیں یہ بھی ایک عجیب منظر کہ چاروں طرف درکت اور بیچ میں پانی جس کا طول و عرض دو سو دو سو ڈہائی سو ڈہائی سو گز اور گہرائی چالیس چالیس فٹ پچاس پچاس فٹ ہے تالاب میں قسم قسم کی مچھلیاں ہیں مستورات کانٹے کے ذریعہ ان مچھلیوں کا شکار کرتی ہیں ضرورت کے وقت بعد مغرب تالاب کے کنارہ کے حصہ میں چاول وغیرہ چوگا پانی میں ڈال دیتے ہیں مچھلیاں وہاں جمع ہو جاتی ہیں خشکی میں کھڑے ہو کر مچھلیوں کی جگہ پر گول چکر والا جال پھینک مار کر کھینچ لیتے ہیں ۔بقدر ضرورت مچھلیاں رکھ لیتے ہیں باقیوں کو تالاب میں ڈال دیتے ہیں ۔ سمندروں ، دریاوں ، کھیتوں ، نالوں کی مچھلیوں کے علاوہ یہ تالابی مچھلیاں ان کی گھریلوپالتوں مچھلیاں ہیں یہاں سینکڑوں اقسام کی مچھلیاں ہیں بعض بعض مچھلیاں تو لذت اور خوبیوں میں بڑھ چڑھ کر ہیں ۔ ایک قسم کی مچھلی کا پوراگوشت ہی تیل ہے کھانے میں بے حد لذیذ ہے ۔ ایک قسم کی مچھلی ہر وقت صفیں اور قطاریں باند ھ کر فوجی پلٹنوں کی طرح سطح پر تیرتی رہتی ہیں ۔ تالابوں میں ان کا نظارہ کا عجیب منظر نظر آتا ہے ۔ نہایت لذیذ اور خوش ذائقہ مچھلی ہے کانٹے نرم اور خوش ذائقہ ہونے کی وجہ سے بمعہ کانٹے چبا کر کھاتے ہیں اس مچھلی کو وہ بنٹہ کہتے ہیں او ر روغنی مچھلی کو الیش کہتے ہیں سمندروں سے من من نصف من کی مختلف قسم کی بڑی بری مچھلیاں شکار کرتے ہیں۔
گول چکر باغ کے بیچ میں یا گول چکر باغ کے گھیر اور اس گھیر کی رہائشی چیزوں کا نام ان کے یہاں باڑی ہے اس باڑی کے چارو ںطرف ہر موسم اور فصل کی کاشت کی زمینیں ہیں ہر فصل عمدہ اور سبزو شاداب ہونے کی وجہ سے ہر فصل ایک خوش منظرہےیہ ایک مالک کی ایک باڑی ہے اس سے سو دو سو قدم یا کم و بیش قدم کے فاصلہ پر اسی باڑی کے نقشہ پر دوسرے مالک کی باڑی ہے جو گول چکر باغ کے درمیانی حسہ میں رہائشی چیزیں واقع ہیں اور چاروں طرف کاشتکاری کی زمینیں ہیں پورے ملک اسی سلسلہ اور اسی آبادی نقشہ سے آباد ہے۔ ان آبادیوں میں ہر طرف سڑکیں جاتی ہیں ریل لائنیں جاری ہیں جگہ جگہ فاصلہ پر بازاریں لگتے ہیں بڑے بڑے بازار گاہ کی جگہ پر ڈاکخانہ ، ہسپتال ، اسکولیں ، اور مدرسیں قائم ہیں یہ بازاریں منڈی اور نمائش کی طرح مقررہ دنوں میں لگتے ہیں کوئی بازار جمعہ ، پیر ، بدھ کو لگتا ہے کوئی ہفتہ ، منگل کے روز لگتا رہتا ہے کوئی بازار اتوار ، جمعرات کے روز لگتا ہے غرض اس طرح ملک بھر روزانہ مقررہ دنوں میں جگہ جگہ بارہ بجے سے رات کے دس گیارہ بجے تک ہر چیز اور ہر خریدو فروخت کے بازار یں جاری رہتے ہیں اور دنیا کی آمدو رفت جاری رہتی ہے البتہ صرف صدر مقام ، انڈیا ، پاکستان کے قصبہ و شہر کے نقشہ کی طرح ہے۔
بنگال میں عجیب طریقہ س موسم سرما میں کھجور کے درختوں سے منوں رس حاصل کیا جاتا ہے جس کے مقابلہ میں گنے کا رس ہیچ ہے وہ رس پانی رنگا نہایت صاف شفاف اور بہت شیریں خوش ذائقہ خوش بو ہے اس کی کھیر بھی نہایت لذیذ بنتی ہے اس رس سے راب ، گڑ بنایا جاتا ہے جو خوش ذائقہ ہے یہ نعمت خدائی رحمت کی بارشی پانی کی برکت سے ہے ۔ یہاں کی سبزیں اور دالیں لذیذ اور کوش ذائقہ ہیں یہ بھی باریشی پانی اور زمیں کی ستھری ہونے کی وجہ سے ۔ گھروں کے ساتھ عورتیں شلجم ، کدو ، توری وغیرہ کی صرف دو تین بیلیں کھری کر لیتی ہیں سبزیاں ختم نہیں ہوتیں ۔ ہر باری پر خوش رسیلے اام ، کھٹال بٹھال ، لیچو ، امرود، ناریل ،سپاری اور دیگر پھلوں کی کثرت ہے وہاں پر کچھ ایسے پھل اور ایسی سبزیاں اور ساگیں ہیں جو یہاں نہیں ہیں ۔
۵ سال کی عمر میں مجھے والد صاحب نے قراان مجید کے سبق میں بٹھایا ۷ ماہ کے بعد جب قرآن مجید ختم ہوا تو بنگالی زباں کے پرائمری سکول میں داخل کرا دیا اور رات کو فراغت کے وقت فارسی کا سبق پڑھاتے رہے افسوس جب میری عمر سات سال کی ہوئی والد صاحب ہم کو داغ جدائی دیگر غیر وطن رنگپو ر میں اس دنیا سے رحلت کر گئے ان کے بعد میرے جو دو بھائی تھے وہ فوت ہو گئے میری گیارہ سال کی عمر میں والدہ محترمہ بھی مجھے جدائی دے کر دنیا سے رحلت کر گئی آٹھ سال تک بنگال میں راحت اور فراخی اور شادابی کی زندگی رہی اس دور میں جو پیسے شاہی تھے اس چار پیسے کا ایک اانہ اور سولہ آنے یعنے چونٹھ پیسے کا ایک روپیہ ہوتا تھا اس زمانہ کے بعض چیزوں کی قیمت مجھے اب بھی یاد ہے اعلیٰ دھان کی قیمت فی من ڈیڑھ روپیہ تھی ۔ اعلیٰ چاول فی من کی قیمت سوا دو رپیہ ، ڈھائی روپیہ ہو ا کرتی تھی کیلے ایک پیسے کے چھے تک ملتے تھے۔ اچھے میٹھے آم بڑے ایک آنے میں 8 ، 9 ملتے تھے ۔ بھیڑے فربہ اچھا دو ڈھائی روپیہ میں مل جاتا تھا ۔ بکرا ادنیٰ درجہ کا ۳ روپیہ اور اعلیٰ درجہ کا ۴ روپیہ میں مل جاتا تھا اچھی مرغی چار پانچ آنے میں اور مرغا سات آٹھ آنے میں ملتا تھا ایک پیسے میں دو انڈ ے مل جاتے تھے کالی مرچ زیرہ کشمیری6آنے سیر ، چھوٹی الائچی دو پیسے تولہ ، دیسی کھانڈ دو ڈھائی آنے سیر ، دودھ آنے سیر تیل سرسوں روپیہ میں 5 سیر ، چاندی روپیہ میں تین تولے سونا خالص فی تولہ 15 روپیہ
بارہ سال کی عمر میں کلکتہ آ کر میں مدرسہ عالیہ میں داخل ہوا ایک سال مدرسہ کے بوڈنگ میں رہ اکثر ہم چند مل کر کھانا پکا کر گذارہ کرتے تھے اس وقت کلکتہ میں موٹا اچھا گوشت ڈھائی آنہ سیر اور بکرے کا گوشت 5 آنے سیر اور دالیں ڈیڑھ آنہ سیر دودھ ڈیرھ آنہ سیر گھی دیسی ڈیڑھ روپیہ سیر تھا اس وقت بناسپتی گھی نہیں تھا بسا اوقات ہوٹل میں ناشتہ کر لیتے ایک بڑا پوڑے جس کے ساتھ تقریباً ایک چھٹاک حلوا اور ایک کپ چائے بھی ہوتی تھی صرف ڈیڑھ آنے صرف ہوتے اس وقت سوائے انگریزوں کے عام لوگوإ میں بعض بعض چائے پیا کرتا تھا ۔ اچھا ولائتی لٹھے کے سلوار اور وائل جاپانی و جرمنی کپڑے کے قمیج اس سوٹ میں بمعہ مزدوری درزی صاحب کل دو ڈھائی روپیہ خرچ ہو جاتا تھا دو روپیہ میں کورم چمڑے کی اچھی گوگابی فامشو جوتی آ جاتی تھی 2 روپیہ کی ایک جوڑا گوگابی جوتی میں5سال تک استعمال کرتا رہا کلکتہ سے میں نے واٹسن کمپنی کی 2/50روپیہ سے ایک جیب گھڑی خردی تھی میرے پاس بارہ سال تک کام دیتی رہی آخر ایک سفر میں گم ہو گئی ۔ کلکتہ سے ڈیڑھ آنہ میں ایک ولایتی استرہ خریدہ تھا استرہ تو آج 55سال کے بعد بھی میرے پاس موجود ہے استعمال میں کام دے رہا ہے نہ کیل و دستہ ڈھیلا ہوا نہ بیکار ۔ پر ڈیڑھ آنہ کا چاقو 38سال تک مستعمل رہا بغیر تیز دئے بلا تکلف مرغی ، مرغا ذبح کیا جاتا تھا38سال کے بعد بھی اس میں کسی قسم کا نقص نہیں آ یا تھا بعد کو گھر والوں نے بے احتیاطی سے اسکو ضائع کر دیا ۔
تیرھواں سال کی عمر میں میں مدرسہ دارالعلوم دیوبند میں آیا غالباً اس وقت 1927 ء کا وقت تھا ۔ صوبہ یوپی ضلع سہارنپور کی تحصیل دیوبند شہر میں واقع ہے ۔اس زمانہ میں دنیا بھر میں ایسا مدرسہ کہیں بھی نہیں ہے علم میں سب سے ماہر علماء یہاں سے نکلتے ہیں دنیا بھر میں اس زمانہ کے سب سے بڑے متقی دین پرست ان ماہر علماء میں سے نکلتے ہیں اس اسلامی یونیورسٹی میں بخارہ ، ہرات ، تاشقند ، بصرہ ، بغداد ، ایران ، کابل ، مکہ معظمہ ، مدینہ منورہ ، چین ، جاوا ، برہما وغیرہ غیر ممالک کے طلبہ بھی داخل مدرسہ رہتے ہیں اس مدرسہ دارالعلوم شہر دیوبند میں 8 سال تک میں تعلیم میں مصروف رہا اس زمانے کی چند اشیاء کی قیمت سے اُ س وقت کی ارزانی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے موٹے دانے کی ولائتی چینی روپیہ میں سوا تین سیر میراٹھی گڑ روپیہ میں20 سیر ، کشمیری اور درادھونی اعلیٰ باسمتی چاول روپیہ میں 5سیر گھی دیسی فی سیر ڈیڑھ روپیہ تیل سرسوں فی سیر 4آنے دودھ فی سیر ڈیرھ آنے گوشت دھناپی فی سیر 3آنے گوشت بکرا فی سیر 6آنے میٹھائی دیسی گھی کی سیر 6۔ ہم طلبہ بازار سے سوا روپیہ سے بنی بنائی تیار منجیاں (چارپائیاں ) خریدتے رہے سردی میں بنی بنائی لحاف رزائی کھدر کے پلے کا ڈھائی ڈھائی روپیہ میں خرید لیتے تھے اُس وقت نئی بہتر روئی روپیہ میں چار سیر ہم خریدتے رہے اور لحاف کے دونوں پلے کھدر کے چھاپے ہوئے ڈیڑھ روپیہ سے خرید کر کے دھو نیا کو 4آنہ دی کر بھروا لیتے تھے ۔ ہاتھ کی دھونی ہوئی روئی بہت عمدہہ ہوتی تھی اور چٹخی سے روئی یکساں پھیل جاتی تھی دو سیر روئی والی رزائی میں بھی دو تین سال تک کہیں خالی اور چاندنی نظر نہیں آتی اور بار بار لوگڑ نکال کر بھروائی کی نوبت نہیں پیش آتی تھی ۔
مدرسہ کے سامنے حلوائیوں کی دکان پر صبح ہم ناشتہ کرتے تھے ہم کو دو پیسے میں ایک پاوٌ گرم دودھ جس میں چینی ڈالی ہوتی تھی دو پیسے میں مل جاتا تھا ایک عمدہ بڑا رس ادھا پیسہ میں مل جاتا تھا الغرض کل ڈھائی آنہ میں صبح کو ہمارا یہ ہلکا پھلکا سستا ناشتہ بنجاتا تھا حساب میں ایک ماہ میں ہمارا ناشتہ خرچ صرف ایک روپیہ پونے تین آنے کا تھا ۔ ہم ہوٹل والوں سے دونوں وقت کے کھانے کا معامہ ماہوار 5روپے طے کر لیتے تھے ایک وقت میں ہمکو چار چپاتی روٹی اور ایک پیالہ گوشت سبزی کی بھاجی مل جاتی تھی صرف جمعہ کے روز دونوں ٹائم بھاجی کی بجائے دال ملا کرتی تھی گویا کہ ہمارا سالانہ کھانا خرچ 60روپیہ کا تھا ۔ اس زمانہ دیوبند شہر میں چمن کےچھوٹے انگور فی سیر چھی آنے اور بڑے انگور آٹھ آنے میں ملتے تھے ایک آنے میں بڑے برے ہری چھال 2 چار کیلے ملتے تھے ۔ لوگ ان کیلوں کو بمبئی والےہری چھال کیلے کہتے تھے ۔ علاقہ سہارنپور میں چوسنے کے دو قسم کے گنے کی کاشت ہوتی تھی ۔
(یہاں پر اس تحریر کا اختتام جو اُن (محمد مصطفٰے ) کے ہاتھ سے لکھی گئی تھی ۔ آگے بھی شاید کچھ لکھنا چاہتے تھے لیکن پتہ نہیں کس مجبوری یا مصروفیت کی بنا پر پایہ تکمیل تک نا پہنچا سکے ۔ ہو سکتا ہے شاید زندگی ہی ساتھ چھوڑ گئی ہو ۔ باقی آگے کچھ اپنے الفاظ میںجو اپنے بڑوں سے سن رکھی تھیں ۔ )
Comments
Post a Comment